پاکستان نے ایران میں جاری صورتحال پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دے کر سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان ایران کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے اور پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال ایران دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران جلد اپنے موجودہ بحران پر قابو پا لے گا اور سخت حالات سے نکل آئے گا۔ پاکستان کو ایرانی قیادت اور عوام پر مکمل اعتماد ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور ایران کے استحکام کی ہر ممکن حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایران کے مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے تاکہ پورا خطہ امن کی راہ پر آگے بڑھ سکے۔
بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات بے بنیاد، پرانے اور گمراہ کن ہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہیں، جبکہ بھارت کے یہ الزامات صرف سیاسی مقاصد کے لیے گھڑی گئی کہانیاں ہیں جو خود بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
ترجمان نے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی کے واضح ثبوت موجود ہیں، جن کی نشاندہی افغانستان سمیت دیگر علاقوں میں بھی ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں بڑھتا ہوا انتہاپسندانہ رویہ اور مذہبی بنیادوں پر تشدد پورے خطے کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف کے اعلان پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ ایک جاری صورتحال ہے جس کا پاکستان جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاک ایران تجارت عالمی تجارتی قوانین کے تحت ہو رہی ہے، جبکہ پاکستان امریکا کے ساتھ بھی اچھے تجارتی تعلقات رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے ساتھ تجارت جاری رکھنا چاہتا ہے۔
امریکی ویزا پالیسی سے متعلق رپورٹس پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔ امید ہے کہ امریکا جلد پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا سہولتیں بحال کرے گا۔
ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں فلسطین اور کشمیر کے مسائل کو اجاگر کیا اور رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لیے اپنا کردار مزید مضبوط کریں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم نے مختلف اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور سعودی عرب میں نئے دفتر کی عمارت کا افتتاح بھی کیا۔ اس موقع پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بہتر قونصلر سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان فلسطین اور کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا اور عالمی سطح پر اس مؤقف کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گا۔
سیو آور پاک
