پاکستان نے توانائی کے شعبے میں خودکفالت کی جانب ایک اہم پیش رفت حاصل کر لی ہے، جہاں ملک میں تیل اور گیس کے نئے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ اس دریافت سے روزانہ ہزاروں بیرل خام تیل اور قابلِ ذکر مقدار میں گیس حاصل ہونے کی توقع ہے۔
اسلام آباد میں سرکاری ذرائع نے بتایا کہ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے خیبرپختونخوا کے علاقے میں واقع سامانہ سُک اور شنواری فارمیشنز میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت کیے ہیں۔ حکام کے مطابق ان ذخائر سے یومیہ تقریباً 3100 بیرل خام تیل اور 8.15 ایم ایم ایس سی ایف ڈی میتھین گیس حاصل ہو سکے گی۔
او جی ڈی سی ایل کے اعلامیے کے مطابق بارگزی ایکس-01 نامی کنویں کی کھدائی 5,170 میٹر گہرائی تک کی گئی، جہاں پہنچ کر تیل اور گیس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ دریافت پاکستان کے توانائی کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
نئے ذخائر سے حاصل ہونے والی پیداوار قومی توانائی نظام میں شامل کی جائے گی، جس سے نہ صرف مقامی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی بلکہ تیل اور گیس کی درآمدات پر انحصار بھی کم ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
او جی ڈی سی ایل حکام نے مزید بتایا کہ اس کنویں میں کمپنی کا 65 فیصد ورکنگ شیئر ہے، جبکہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ 30 فیصد اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ کے 5 فیصد حصص ہیں۔ تیل اور گیس کی یہ نئی دریافت توانائی کی طلب اور مقامی پیداوار کے درمیان فرق کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
سیو آور پاک
