گل پلازہ میں پیش آنے والے دلخراش سانحے نے شہر کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس افسوسناک حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 27 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اب بھی 83 افراد لاپتہ ہیں۔ خوفناک آگ پر قابو پانے میں ریسکیو اداروں کو 33 گھنٹے لگے، جبکہ متاثرہ عمارت کا ایک اور حصہ بھی گر چکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق آگ کے بعد گل پلازہ کی عمارت کے پلرز ٹیڑھے ہو چکے ہیں، جس کے باعث مکمل عمارت کے گرنے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکام نے خطرے کے پیشِ نظر ملبہ ہٹانے کا کام تیز کر دیا ہے۔ ریسکیو آپریشن میں ایک ہزار سے زائد اہلکار حصہ لے رہے ہیں، جبکہ ملبے سے جھلس کر مسخ شدہ لاشیں، بعض اوقات ٹکڑوں کی صورت میں بھی نکالی جا رہی ہیں۔ کئی لاشیں اس حد تک جل چکی ہیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں رہی۔
آگ بجھنے کے فوراً بعد شہری بڑی تعداد میں عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے، جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے لیے ہر گزرتا لمحہ قیامت سے کم نہیں۔ کوئی اپنے بیٹے کا منتظر ہے تو کوئی بھائی، بہن یا والد کی واپسی کی آس لگائے بیٹھا ہے۔
لاپتہ فرحان کی والدہ کی دہائی نے سب کو رُلا دیا، جو مسلسل اپنے بیٹے کو واپس لانے کی فریاد کر رہی ہیں۔ بنارس کا رہائشی ایک نوجوان اب تک لاپتہ ہے، جبکہ گارڈن کے 18 سالہ محمد شیز کا بھی کوئی سراغ نہیں ملا۔ سعید آباد کے دو بھائی، 31 سالہ کامران اور 27 سالہ عدنان، تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ کورنگی کے رہائشی 45 سالہ تنویر احمد کے اہلِ خانہ بھی شدید کرب میں مبتلا ہیں۔
ایک ہی گھر کی تین خواتین اب تک لاپتہ ہیں۔ افسوسناک طور پر سپین اور آسٹریلیا سے اپنی شادی کی خریداری کے لیے آنے والی دو بہنیں بھی گل پلازہ کی آگ کی نذر ہو گئیں۔ لاپتہ خواتین کی بہن نے میڈیا کو اپنی دردناک داستان سناتے ہوئے بتایا کہ یہ سانحہ ان کے پورے خاندان کو اجاڑ گیا۔
ریسکیو آپریشن کے باوجود اب تک عمارت کے اندر داخل ہونے کا محفوظ راستہ تلاش نہیں کیا جا سکا۔ تین روز گزرنے کے باوجود اندر جانے کا کوئی واضح راستہ نہیں مل سکا۔ اس صورتحال میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے حکام پلازہ کا نقشہ لے کر موقع پر پہنچ گئے ہیں۔
بلڈنگ کنٹرول حکام کے مطابق پلازہ میں غیرقانونی طور پر بنائی گئی اضافی دکانوں کی وجہ سے گزرگاہیں بند ہو چکی تھیں۔ نقشے کے مطابق عمارت میں داخلے کے آٹھ راستے موجود تھے، جن میں سے پانچ راستے غیرقانونی تعمیرات کے باعث بند ہو گئے۔
دوسری جانب گل پلازہ کی چھت سے کرین کی مدد سے سات گاڑیاں نیچے اتار لی گئی ہیں، جن میں سے دو گاڑیاں محفوظ حالت میں ان کے مالکان کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ تاجر عامر کے مطابق پلازہ کی چھت پر گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پارک تھیں، جبکہ ان کی دکان پر کام کرنے والے دو افراد بھی اب تک لاپتہ ہیں۔
سیو آور پاک
