ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری کے باعث کئی مقامات پر زمینی رابطے منقطع ہو گئے ہیں، جبکہ بلوچستان کے شہر چمن میں موسلادھار بارش نے نشیبی علاقوں کو زیرِ آب کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مسلسل برفباری کے باعث مختلف پہاڑی علاقوں میں سڑکیں بند ہو گئیں، جس کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں ایک بار پھر ہلکی برفباری ریکارڈ کی گئی، جبکہ گریس ویلی میں پانچ فٹ تک برف پڑنے کی اطلاعات ہیں۔ شدید برفباری کے باعث گریس ویلی کو جانے والی سڑک بند کر دی گئی ہے اور بجلی کی بحالی کا کام جاری ہے۔
وادی لیپہ میں بھی شدید برفباری کے سبب زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔ مشکل حالات کے باوجود پاک فوج کی جانب سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کامیاب ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری رکھا گیا۔ اس دوران طبی پیچیدگی میں مبتلا ایک مریضہ کو فوری طور پر ہیلی ایمرجنسی کے ذریعے راولپنڈی ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا۔
دوسری جانب بلوچستان کے شہر چمن اور اس کے گرد و نواح میں موسلادھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
محکمہ موسمیات نے منگل تک ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارش اور برفباری کی پیش گوئی کی ہے۔ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا، اسلام آباد، مری اور گلیات میں بارش جبکہ پہاڑی علاقوں میں برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی بارش کی نوید سنا دی گئی ہے، جبکہ سندھ میں آج سے بادل برسنے کی توقع ہے۔
ادھر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے اگلے 12 گھنٹوں کے دوران خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں بارش اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
سیو آور پاک
