جمعرات , 4 جون 2026 | 1 USD = 279.141204 PKR
ایک تولہ سونا ریٹ = 461500.00 روپے
وادیِ تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں، سب الزامات بے بنیاد ہیں: خواجہ آصف
وادیِ تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں، سب الزامات بے بنیاد ہیں: خواجہ آصف

وادیِ تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں، سب الزامات بے بنیاد ہیں: خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ وادیِ تیراہ میں کسی قسم کا کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اپنی ناکامیوں کا بوجھ فوج اور ایک ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ سردیوں کے موسم میں انخلا کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں، بلکہ یہ ایک پرانا معمول ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے اس معمول کو غیر ضروری طور پر متنازع بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ میں جو کیمپس قائم کیے گئے ہیں وہ ناکافی ہیں اور چار ارب روپے کے جو انتظامات بتائے جا رہے ہیں، وہ زمینی حقیقت میں نظر نہیں آ رہے۔

وزیر دفاع نے سوال اٹھایا کہ یہ چار ارب روپے کہاں خرچ ہوئے، کتنا خرچ ہوا اور کتنا باقی ہے، اس سب کا احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس نوٹیفیکیشن کو واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، وہ خود صوبائی حکومت کا جاری کردہ ہے، اگر واپس لینا ہے تو خود واپس لے لیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تیراہ ویلی کے حوالے سے پھیلائے جانے والے تنازع پر مؤقف واضح کرنے کے لیے یہ پریس کانفرنس کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تیراہ میں کسی بڑے آپریشن کے بجائے صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں اور وہ بھی مخصوص اطلاعات کی بنیاد پر۔

انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد کے ساتھ موجود وادیاں اور علاقے سخت سردیوں میں عارضی ہجرت کا سامنا کرتے ہیں، جو برطانوی دور سے چلا آ رہا ہے۔ اسی روایت کے تحت تیراہ کے مشران نے جرگہ کیا، پہلے ٹی ٹی پی سے بات کی، پھر صوبائی حکومت سے ملاقات کی۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ تیراہ میں کالعدم ٹی ٹی پی کے افراد موجود ہیں جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہتے ہیں، جن کی تعداد چار سے پانچ سو کے قریب بتائی جاتی ہے۔ جہاں بھی ان کی موجودگی کی اطلاع ملتی ہے، وہاں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی مشران اور صوبائی حکومت کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں چار ارب روپے کا مائیگریشن پیکج طے ہوا، جس کا فوج سے کوئی تعلق نہیں۔ اس حوالے سے جو نوٹیفیکیشن جاری ہوا، وہ بھی صوبائی حکومت اور جرگے کے فیصلے کا نتیجہ تھا۔

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ کئی سال پہلے اس علاقے میں بڑے آپریشن کیے جا چکے ہیں، لیکن بعد میں فیصلہ ہوا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز زیادہ مؤثر ہیں، اسی پالیسی پر اب تک عمل ہو رہا ہے۔

سوالات کے جواب میں انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں کوئی تھانہ یا سول قانون نافذ کرنے والا ادارہ موجود نہیں، جبکہ ہزاروں ایکڑ پر بھنگ کی کاشت بھی اس تنازع کی ایک بڑی وجہ ہے۔

خواجہ آصف نے زور دیا کہ اصل تصویر عوام کے سامنے آنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقامی مفادات بھی اس صورتحال سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گیارہ دسمبر کے جرگے کے بعد چوبیس اور اکتیس دسمبر کو بھی اجلاس ہوئے، جن میں کہیں بھی فوج کا کردار نظر نہیں آتا۔

انہوں نے دوبارہ کہا کہ صوبائی حکومت اپنی ناکامیوں کا ذمہ فوج پر ڈال رہی ہے، جبکہ حقیقت میں مسئلہ سہولیات کی عدم فراہمی اور ناقص انتظامات ہیں۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا۔ بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی، لیکن کامیابی نہ ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ کابل اور قندھار کی قیادت کے اندرونی اختلافات بھی اس صورتحال کی ایک وجہ ہیں۔

اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت اور اس کے ماتحت ادارے تیراہ کے عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے مکمل تعاون کو تیار ہیں۔ انہوں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برٹش گزٹ اور 1899 کی کتابوں میں بھی درج ہے کہ تیراہ کے قبائل ہر سال سردیوں میں ہجرت کرتے ہیں۔

پریس کانفرنس میں اختیار ولی خان نے الزام لگایا کہ تیراہ میں نقل مکانی کے نام پر بنایا گیا منصوبہ دراصل مالی فائدے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چار ارب روپے نکال کر سیاسی سرگرمیوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں اور آٹھ فروری کے احتجاج کے لیے تیراہ کے عوام کو استعمال کیا گیا۔

About A.M JAN

Check Also

گلگت بلتستان کیلئے نواز شریف کے وعدوں نے سب کو حیران کر دیا

گلگت بلتستان کیلئے نواز شریف کے وعدوں نے سب کو حیران کر دیا

مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ …

جواب دیں