وزیراعظم شہباز شریف نے نیپرا کی جانب سے جاری کیے گئے نئے سولر ریگولیشنز کا فوری نوٹس لے لیا ہے۔ انہوں نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان قوانین کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کرے تاکہ موجودہ صارفین کے معاہدوں کا مکمل تحفظ کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ سولر سسٹم استعمال کرنے والے صارفین کے کنٹریکٹس ہر صورت محفوظ رہنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تقریباً 4 لاکھ 66 ہزار افراد سولر سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ 3 کروڑ 76 لاکھ سے زائد صارفین صرف نیشنل گرڈ سے بجلی حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ کسی بھی فیصلے کا بوجھ عام صارفین پر نہ پڑے۔
انہوں نے پاور ڈویژن کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے پر ایک جامع اور متوازن لائحہ عمل تیار کرے تاکہ بجلی کے نظام میں توازن برقرار رہے اور کسی بھی طبقے کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
اس حوالے سے وزیراعظم کی زیر صدارت اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت کئی وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں نیپرا کے نئے ریگولیشنز پر تفصیلی غور کیا گیا اور مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایسے فیصلے کرے گی جن سے ملک کے توانائی نظام کو استحکام ملے اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سیو آور پاک
