امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنی ٹیرف پالیسی کے ذریعے کئی عالمی تنازعات ختم کروائے، جن میں پاک بھارت نیوکلیئر جنگ بھی شامل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت مداخلت نہ کی جاتی تو صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی تھی۔
اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے نائب صدر، وزیر خارجہ اور خاتون اول سمیت تمام حکومتی شخصیات کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم خطاب کا موقع ملنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ پانچ ماہ قبل امریکا نے اپنی آزادی کی 250 ویں سالگرہ منائی اور اب ملک ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو معیشت کمزور تھی اور کئی سنگین مسائل درپیش تھے، لیکن ایک سال کے اندر حکومت نے بڑے اصلاحاتی اقدامات کیے اور حالات بدل دیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بائیڈن کے دور میں مہنگائی بلند ترین سطح پر تھی، تاہم اب یہ کم ہو کر 1.7 فیصد رہ گئی ہے۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ نئے ریکارڈ بنا رہی ہے جبکہ گیس کی قیمتیں زیادہ تر ریاستوں میں 2.30 ڈالر فی گیلن سے بھی کم ہیں، اور بعض علاقوں میں یہ 1.99 ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ ان کے مطابق تیل اور قدرتی گیس کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے، لیکن ان کی کوششوں سے یہ خطرہ ٹل گیا۔ ان کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم نے بھی اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ اس سے کروڑوں جانیں بچ گئیں۔
سرحدی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا کی سرحدیں اس وقت پہلے سے زیادہ محفوظ ہیں اور غیر قانونی امیگریشن تقریباً رک چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت صرف غیر قانونی داخلے کی مخالفت کرتی ہے جبکہ قانونی امیگریشن کا احترام کیا جاتا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں 18 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن ہوئی جبکہ سابق حکومت کے دوران یہ صرف ایک ٹریلین ڈالر تھی۔ انہوں نے کہا کہ ٹپ اور اوورٹائم پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے اور وہ ممالک جو پہلے امریکا سے فائدہ اٹھاتے تھے اب ادائیگیاں کر رہے ہیں۔
انہوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا جس میں کہا گیا تھا کہ عالمی ٹیرف نافذ کرتے وقت صدارتی اختیارات سے تجاوز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ٹیرف کے ذریعے امریکا کو سیکڑوں ارب ڈالر حاصل ہوئے اور قومی سلامتی بھی مضبوط ہوئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تجارتی قانون کی دفعہ 122 کے تحت 15 فیصد نئے عالمی ٹیرف نافذ کیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے دنیا میں 8 جنگیں رکوانے میں کردار ادا کیا اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو نقصان پہنچایا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کا معاملہ سفارتکاری سے حل ہونا چاہیے اور امریکا چاہتا ہے کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہ رکھے۔
خطاب کے دوران انہوں نے فوج، پولیس اور آئس ہاکی ٹیم کی تعریف کی اور کہا کہ امریکا اب پہلے سے زیادہ مضبوط اور محفوظ ہے۔ انہوں نے اسے امریکا کی "سب سے بڑی واپسی” قرار دیا اور کہا کہ ملک ایک نئے سنہری دور میں داخل ہو چکا ہے۔
خطاب کے دوران ایوان نمائندگان میں اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب ڈیموکریٹ رکن ال گرین کو ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے صدر کی آمد پر ایک پلے کارڈ اٹھایا تھا جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں باہر لے جایا۔
صدر ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر کابینہ اراکین، کانگریس ممبران اور ان کے اہل خانہ بھی عمارت میں موجود تھے۔
سیو آور پاک
