مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے اثرات اب فضائی راستوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ موجودہ حالات کے باعث پاکستان اور افغانستان کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
فلائٹ ریڈار کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاک افغان فضائی حدود سے گزرنے والے کئی روٹس دنیا کے مصروف ترین فضائی کوریڈور بن چکے ہیں۔ مختلف ممالک کی ایئرلائنز اب متبادل راستوں کے طور پر انہی فضائی حدود کا استعمال کر رہی ہیں۔
فلائٹ ریڈار کی جاری کردہ تصاویر میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے اوپر پروازوں کا غیر معمولی رش موجود ہے۔ آسمان میں ایک ساتھ درجنوں طیارے سفر کرتے نظر آ رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فضائی ٹریفک میں واضح اضافہ ہوا ہے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود سے اوور فلائنگ بڑھنے کے باعث ملک کی ایوی ایشن انڈسٹری کو نمایاں مالی فائدہ متوقع ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس اضافے سے لاکھوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو گی۔
ماہرین کے مطابق جب تک مشرق وسطیٰ کی صورتحال معمول پر نہیں آتی، پاکستان کی فضائی حدود اہم متبادل راستہ بنی رہ سکتی ہے۔
سیو آور پاک
