جمعہ , 5 جون 2026 | 1 USD = 278.25305 PKR
ایک تولہ سونا ریٹ = 461500.00 روپے
پیٹرول 40 اور ڈیزل 80 روپے مہنگا؟ اہم اجلاس میں خطرناک اشارے
پیٹرول 40 اور ڈیزل 80 روپے مہنگا؟ اہم اجلاس میں خطرناک اشارے

پیٹرول 40 اور ڈیزل 80 روپے مہنگا؟ اہم اجلاس میں خطرناک اشارے

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا جائزہ لینے کے طریقہ کار میں تبدیلی پر غور شروع کر دیا ہے۔ اب یہ تجویز زیر غور ہے کہ قیمتوں کا جائزہ 15 دن کے بجائے ہر ہفتے لیا جائے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں خطے کی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران شرکاء کو بتایا گیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے بعد پاکستان اس صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان اسٹیٹ آئل نے پیٹرول اور ڈیزل کی درآمد کے لیے نئے ٹینڈرز جاری کر دیے ہیں تاکہ سپلائی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجود ہیں اور فی الحال قلت کا کوئی مسئلہ نہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے سعودی عرب سے متبادل راستے کے ذریعے تیل کی فراہمی کی درخواست بھی کی ہے۔ سعودی عرب نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ متبادل روٹ کے ذریعے تیل فراہم کر سکتا ہے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ روکنے کے لیے سخت نگرانی کی جائے گی۔ توانائی کی بچت کے لیے ورک فرام ہوم جیسے اقدامات بھی زیر غور ہیں۔ مختلف تجاویز پر مبنی ایک سمری جلد منظوری کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو پیش کی جائے گی۔

دوسری طرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 15 مارچ تک پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں تقریباً 32 روپے فی لیٹر اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح پیٹرول کی قیمت 153 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر تقریباً 186 روپے 47 پیسے تک پہنچ سکتی ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 50 روپے فی لیٹر سے زیادہ اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ کچھ کمپنیاں جان بوجھ کر سپلائی متاثر کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اگرچہ قلت نہیں ہے لیکن کئی جگہوں پر ذخیرہ اندوزی شروع ہو چکی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کم کی جا رہی ہے۔

ڈیلرز کے مطابق اگر یہی صورتحال جاری رہی تو پیٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 80 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

عالمی منڈی میں بھی تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 93 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 138 ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت بھی 79 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً 98 ڈالر تک جا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث خطے میں ایندھن کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اسی وجہ سے کچھ تیل کمپنیوں نے پیٹرول پمپس کو سپلائی محدود کر دی ہے جبکہ حکومت ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے اضافی تیل منگوانے کی کوششیں بھی تیز کر رہی ہے۔

آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے بھی وزیراعظم کو خط لکھ کر صورتحال کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کی موجودہ صورتحال کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرولیم مصنوعات کا کوٹہ مقرر کر دیا ہے اور بعض آرڈرز میں بار بار تبدیلیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی قلت پیدا کرنے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

وزارت پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس تقریباً 25 دن کا ایندھن موجود ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں قانون کے مطابق کم از کم 20 دن کا ذخیرہ رکھنے کی پابند ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے دو ماہ پہلے ہی اضافی ذخیرہ جمع کرنا شروع کر دیا تھا۔ جنوری میں کمپنیوں نے 25 دن کا ایندھن ذخیرہ کیا تھا جسے فروری میں مزید بڑھا دیا گیا۔

About A.M JAN

Check Also

گلگت بلتستان کیلئے نواز شریف کے وعدوں نے سب کو حیران کر دیا

گلگت بلتستان کیلئے نواز شریف کے وعدوں نے سب کو حیران کر دیا

مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ …

جواب دیں