امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے اتحادیوں پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل وقت میں نیٹو نے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا، حالانکہ امریکہ نے اس اتحاد کے دفاع پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔
اوول آفس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جب نیٹو کو ضرورت پڑی تو امریکہ ہمیشہ آگے رہا، لیکن جب امریکہ کو مدد درکار تھی تو نیٹو نظر نہیں آیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اتحادی ممالک نے اس نازک وقت میں وہ کردار ادا نہیں کیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد طیارے بھیجنے کا اعلان کرنا بے معنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے برطانوی قیادت کو صاف کہا کہ جب جنگ ختم ہو جائے تو پھر ایسے اقدامات کی ضرورت نہیں رہتی۔
امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے بڑے دعوے کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایرانی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کر دیا گیا ہے اور ایران کا بحری اور فضائی دفاع شدید متاثر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ ممالک آگے آئیں جن کا تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں اس وقت کوئی مضبوط قیادت موجود نہیں اور ممکن ہے کہ نئی قیادت بھی فعال نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی قیادت امریکی عوام کے ساتھ دھوکہ دہی میں ملوث رہی ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خطرناک اور پرتشدد عناصر کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق اگر ایران کے پاس ایٹمی بم ہوتا تو وہ اسے استعمال کر سکتا تھا۔ انہوں نے ایران پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک پر میزائل حملے کر رہا ہے اور خطے میں اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا ممکن نہیں، تاہم ان کا خیال ہے کہ صورتحال جلد بہتر ہو جائے گی۔
انہوں نے چین کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ چین جانا چاہتے تھے لیکن موجودہ حالات کے باعث انہیں امریکہ میں ہی رہنا پڑ رہا ہے، اسی لیے دورہ ایک ماہ کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی صدر نے چین، جاپان اور دیگر ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں، کیونکہ ان ممالک کا بڑا حصہ اسی راستے سے تیل حاصل کرتا ہے۔
سیو آور پاک
