ایران نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو سخت پیغام دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر حالات خراب ہوئے تو پیٹرول کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام جلد آج کی موجودہ پیٹرول قیمتوں کو یاد کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو قیمتیں ہیں، لوگ انہیں بعد میں سستا سمجھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو ایسی صورتحال بھی آ سکتی ہے کہ 4 سے 5 ڈالر فی گیلن پیٹرول بھی لوگوں کو کم قیمت لگنے لگے گا۔ ان کے مطابق عالمی حالات میں تھوڑی سی تبدیلی بھی تیل کی قیمتوں پر بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔
قالیباف نے اپنے بیان کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں وائٹ ہاؤس کے اردگرد موجود پیٹرول پمپس پر آج کے ریٹس دکھائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک سادہ ریاضیاتی فارمولہ بھی پیش کیا، جس کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی کہ اگر خطے میں کشیدگی بڑھی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کئی گنا بڑھ سکتی ہیں۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم راستے کی بندش عالمی معیشت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے اور اس کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
سیو آور پاک
