امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اہم اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، جسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل کی قیمت کم ہو کر 101.40 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ برینٹ کروڈ آئل بھی گھٹ کر 107.70 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں کمی اس وقت سامنے آئی جب صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا۔
اگرچہ قیمتوں میں کمی ہوئی، لیکن امریکا اور ایران کے درمیان کسی واضح امن معاہدے کی عدم موجودگی کے باعث تیل کی قیمتیں اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں۔ برینٹ کروڈ فیوچرز میں 64 سینٹ یعنی 0.59 فیصد کمی کے بعد قیمت 107.53 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ اس سے پہلے جمعہ کے روز بھی اس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ آئل کی قیمت بھی 84 سینٹ یا 0.82 فیصد کم ہو کر 101.10 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو پہلے ہی جمعہ کے دن مزید کمی کے بعد نیچے آ چکی تھی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران اور دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان کے جہازوں کو محدود آبی راستوں سے محفوظ طریقے سے نکالنے میں مدد فراہم کرے گا تاکہ تجارتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اب بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی، اور کسی امن معاہدے کے آثار بھی واضح نہیں ہیں، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ترجیح دی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جب تک جنگ ختم نہیں ہوتی اور خلیجی راستوں پر پابندیاں ختم نہیں ہوتیں، جوہری معاملات کو مؤخر رکھا جائے۔
ادھر اوپیک پلس نے اعلان کیا ہے کہ وہ جون کے مہینے میں سات ممالک کے لیے یومیہ 1 لاکھ 88 ہزار بیرل تیل کی پیداوار بڑھائے گا، جو مسلسل تیسری بار اضافہ ہوگا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران سے متعلق کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جاری مسائل کے باعث اس اضافے کے اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔
سیو آور پاک
