پنجاب حکومت نے مدارس کی رجسٹریشن کے نظام کو مزید آسان اور بہتر بنانے کیلئے اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کیلئے مدارس رجسٹریشن ایکٹ میں نئی ترامیم لانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے یہ تجویز دی ہے کہ سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت مدارس کی الگ رجسٹریشن کی شرط کو نرم کیا جائے۔ اگر کوئی مدرسہ پہلے ہی وفاق المدارس یا کسی دوسرے دینی بورڈ کے تحت رجسٹرڈ ہے تو اسے پنجاب میں دوبارہ رجسٹریشن کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت وفاقی سطح پر رجسٹرڈ مدارس کو صوبے میں بھی قانونی حیثیت دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ مدارس کو بار بار رجسٹریشن کے مراحل سے نہ گزرنا پڑے۔
اس کے ساتھ وفاقی اور صوبائی مدارس کے ڈیٹا کو آپس میں جوڑنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔ نئی تجویز کے مطابق جو مدرسہ وفاقی رجسٹریشن اتھارٹی کے ریکارڈ میں پہلے سے موجود ہوگا، اسے پنجاب میں الگ سے رجسٹرڈ نہیں کیا جائے گا۔
اس فیصلے سے مدارس کو دوہری رجسٹریشن، اضافی کاغذی کارروائی اور الگ ویریفکیشن جیسے مسائل سے کافی حد تک ریلیف ملنے کی امید ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ مجوزہ ترامیم علما کرام اور مدارس کے منتظمین سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہیں اور اب انہیں منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کو بھیج دیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبائی کابینہ کو سوسائٹیز ایکٹ میں مجوزہ تبدیلیوں پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی، جس کے بعد ان ترامیم کی باقاعدہ منظوری لی جائے گی۔
سیو آور پاک
