جمعرات , 4 جون 2026 | 1 USD = 278.456204 PKR
ایک تولہ سونا ریٹ = 466000.00 روپے
ٹرمپ کا بڑا دعویٰ, ایک ہفتے میں ایران سے معاہدہ ہونے کی پیشگوئی
ٹرمپ کا بڑا دعویٰ, ایک ہفتے میں ایران سے معاہدہ ہونے کی پیشگوئی

ٹرمپ کا بڑا دعویٰ, ایک ہفتے میں ایران سے معاہدہ ہونے کی پیشگوئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کے نتیجے میں موجودہ جنگ بندی کو مزید آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

امریکی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ممکنہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ عالمی آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے اور تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے امریکا کو جنگ بندی سے متعلق پیغامات کے تبادلے کو روکنے کے بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پیغامات میں وقتی تعطل آ بھی جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکا دوبارہ فوجی کارروائیوں کا آغاز کر دے گا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کی جانب سے رابطوں میں کمی یا تعطل پیدا ہونے سے امریکا کو کوئی خاص مسئلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اس وقت کا انتظار کرے گا جب ایران امریکی شرائط کے مطابق کسی معاہدے پر آمادہ ہوگا۔ اس دوران امریکا اپنی موجودہ حکمت عملی برقرار رکھے گا اور ایران پر دباؤ جاری رکھے گا۔

دوسری جانب ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی۔ رپورٹ کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ اگر بیروت پر مزید حملے کیے گئے تو اسرائیل عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو یہ بھی یاد دلایا کہ امریکا کی حمایت اسرائیل کے لیے انتہائی اہم رہی ہے۔

امریکی ویب سائٹ کے مطابق گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے اسرائیلی پالیسیوں پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور بعض فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ نیتن یاہو نے گفتگو کے دوران زیادہ تر وقت مختصر جوابات دیے اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔

تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے دونوں ممالک کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ بین الاقوامی مبصرین خطے کی بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

About A.M JAN

Check Also

امریکا اور ایران آمنے سامنے, فوجی اڈوں پر حملوں کے بعد صورتحال سنگین

امریکا اور ایران آمنے سامنے, فوجی اڈوں پر حملوں کے بعد صورتحال سنگین

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ …

جواب دیں