مظفرگڑھ: تحصیل علی پور میں دریائے چناب کی تباہ کاریاں بدستور جاری ہیں اور حالات دن بہ دن سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے پاک فوج کی مدد طلب کر لی ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔
پاک فوج سیت پور روڈ پر بھرپور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور بڑے پیمانے پر سیلاب میں گھرے لوگوں کا انخلاء جاری ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اب تک سینکڑوں خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، تاہم پانی کی شدت کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب بھی علی پور پہنچ گئی ہیں تاکہ امدادی سرگرمیوں کا ازخود جائزہ لے سکیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ 1973 کے بعد اس نوعیت کا تباہ کن سیلاب پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے۔
سیلاب زدگان نے شکوہ کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے بروقت اور پیشگی انتظامات نہیں کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق پانچ روز گزر جانے کے باوجود متاثرہ علاقوں سے تمام لوگوں کا انخلاء مکمل نہیں ہو سکا اور کئی خاندان اب بھی پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔
امدادی اداروں اور فوجی دستوں کی کوشش ہے کہ جلد از جلد سب متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا جائے، تاہم دریائے چناب کی مسلسل بلند ہوتی سطح پانی اور خراب موسم آپریشن کو مشکل بنا رہے ہیں۔
سیو آور پاک
