پاکستان کی سیاست میں ایک نیا تنازع اس وقت سامنے آیا جب پانی کی تقسیم اور صوبوں کے تعلقات پر گرما گرم بحث شروع ہوئی۔
سینیٹر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے کسی جلسے میں کوئی بھی ایسا بیان نہیں دیا جو قابلِ اعتراض ہو۔ ان کے مطابق پنجاب ہمیشہ بڑے بھائی کا کردار ادا کرتا آیا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ صوبے کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ اگر پنجاب کے خلاف کوئی الزام لگایا جائے تو وزیراعلیٰ پنجاب کو اس کا جواب دینے کا پورا حق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے حصے کے پانی پر پنجاب کی کوئی مرضی شامل نہیں ہوتی، بلکہ جو گفتگو وزیراعلیٰ نے کل کی ہے وہ اسی طریقے سے مشترکہ مفادات کونسل (CCI) میں بھی کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر کھل کر بحث ہونی چاہئے تاکہ غلط فہمیاں ختم کی جا سکیں۔
دوسری جانب سینیٹر شیری رحمان نے مؤقف اپنایا کہ پانی کی تقسیم کا فیصلہ کسی ایک صوبے کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق یہ عمل ہمیشہ لوئر رائیپیرین اور تمام رائیپیرین صوبوں کے ساتھ مل کر طے پاتا ہے۔ شیری رحمان نے ایوان کو بتایا کہ جمعے کے روز ایڈجرنمنٹ موشن پر اس موضوع پر مزید تفصیل سے بات کی جائے گی۔ ان کا زور اس بات پر تھا کہ ہر رکن کو اپنی زبان میں شائستگی لانی چاہئے تاکہ یہ حساس مسئلہ مزید نہ بڑھے۔
سیو آور پاک
