اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) سینیٹ کے حالیہ اجلاس میں مختلف اہم بلز اور کمیٹی رپورٹس ایوان میں پیش کی گئیں، جن میں تعلیم، صحت، خواتین کے مسائل اور عوامی فلاح سے جڑے اقدامات شامل ہیں۔
سب سے پہلے علیز انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس اینڈ سائنسز بل 2024 پر رپورٹ ایوان میں رکھی گئی جسے تعلیم کے شعبے میں ترقی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن ترمیمی بل 2025 پیش کیا گیا جو ہنرمند نوجوانوں کی تیاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
اجلاس میں کنگ حمد یونیورسٹی آف نرسنگ اینڈ میڈیکل سائنسز بل 2025 اور فاطمہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ملتان بل 2025 پر رپورٹس بھی پیش ہوئیں، جنہیں پاکستان میں اعلیٰ تعلیم اور طبی سہولتوں کو بہتر بنانے کی طرف اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی دوران دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 اور اندرونی امور سے متعلق ترامیمی بلز کی رپورٹس ایوان میں رکھی گئیں، جن پر اراکین نے اپنی رائے دی۔ خواتین اور بچیوں کو درپیش مسائل پر انسانی حقوق کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی جس نے سماجی سطح پر بحث کو جنم دیا۔
مزید برآں، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیشن ترمیمی بل 2025 اور ذہنی صحت آرڈیننس 2001 ترمیمی بل 2025 ایوان کے سامنے رکھے گئے تاکہ صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ سگریٹ نوشی کے انسداد اور نان اسموکرز کے تحفظ کے بل 2025 کی رپورٹ بھی اجلاس میں پیش ہوئی، جو عوامی صحت کے حوالے سے ایک بڑا قدم ہے۔
سیو آور پاک
