عالمی سیاست میں ایک نیا اور سنسنی خیز موڑ آیا ہے۔ سعودی عرب کے بعد اب عرب اور دیگر مسلم ممالک نے دفاعی معاہدے کے لیے اتحاد کر لیا ہے، جو بظاہر NATO کے طرز کا ایک مضبوط اتحاد بنتا نظر آ رہا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس اہم پیش رفت پر کہا کہ یہ اقدام مسلم دنیا کی سلامتی اور دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کرے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اتحاد سے خطے میں امن قائم رکھنے کے امکانات تو بڑھیں گے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس کے سیاستی اور اقتصادی اثرات بھی دیکھیے جائیں گے۔
یہ نیا دفاعی اتحاد مسلم ممالک کے مابین اعتماد اور تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ایک مضبوط سیکیورٹی نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش بھی ہے۔
یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ اتحاد مستقبل میں NATO کی طرح مکمل دفاعی ڈھانچہ بنا پائے گا یا اس کا اثر صرف خطے تک محدود رہے گا۔
سیو آور پاک
