وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے قائد کے کیسز پر سپریم کورٹ میں کوئی سماعت نہیں ہو رہی، جس پر وہ توہین عدالت کی پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، تین ججز کے احکامات کو نظر انداز کیا گیا ہے، جو آئینی عمل کی خلاف ورزی ہے۔
داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ "ہم سپریم کورٹ سے صرف انصاف چاہتے ہیں، نہ کہ کسی رعایت کی توقع رکھتے ہیں۔ ہمارے وکلاء اور پوری ٹیم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں آئین کی بالادستی قائم ہو، کیونکہ آج پاکستان میں فیصلے کسی اور کے اشارے پر ہو رہے ہیں۔”
وزیر اعلیٰ کے مطابق، "جس دن ملک میں حقیقی انصاف ہوگا، عمران خان جیل سے باہر ہوں گے۔ خود ججز نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے فیصلوں میں مداخلت کی جا رہی ہے۔ ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان عناصر کے نام سامنے لائیں جو عدالتی فیصلوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔”
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ان کی اپنے قائد سے ملاقات نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں پیغامات نہیں مل رہے۔ ایک صحافی کے سوال پر کہ اگر آپ کو بانی کے پیغامات مل رہے ہیں تو کابینہ کی تشکیل میں تاخیر کیوں ہے؟ اس پر انہوں نے جواب دیا،
"سوال یہ ہے کہ مجھے بانی سے ملنے کیوں نہیں دیا جا رہا؟ میں عوام کے ووٹوں سے یہاں پہنچا ہوں، اور عوامی مینڈیٹ میرا سب سے بڑا سہارا ہے۔”
خلاصہ:
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بیانات نے ملکی سیاسی منظرنامے میں نئی گرمی پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے عدلیہ سے آئینی بالادستی اور شفاف انصاف کی اپیل کی ہے، جبکہ مخالفین کے مطابق ان کے یہ بیانات سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہیں۔
سیو آور پاک
