ایوانِ صدر میں مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جہاں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اہم قومی اعزازات تقسیم کیے۔
تقریب کے دوران کوہاٹ میں خودکش حملہ آور کو روک کر اپنی جان قربان کرنے والے بہادر شہری لیاقت شہید کو ستارہ شجاعت سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ان کے بھائی نے وصول کیا جبکہ شہید کے اہلخانہ کو خصوصی سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ایوانِ صدر لایا گیا۔
جمہوریت کے لیے خدمات انجام دینے پر مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان کو نشانِ امتیاز دیا گیا۔ ان کی جانب سے یہ اعزاز ان کے صاحبزادے نوابزادہ افتخار احمد خان نے وصول کیا۔ اسی طرح ادب اور عوامی خدمات کے شعبے میں مرحوم عرفان الحق صدیقی کو بھی نشانِ امتیاز دیا گیا، جسے ان کے بیٹے عمران خاور صدیقی نے وصول کیا۔
ادب کے میدان میں خدمات پر عطاالحق قاسمی کو نشانِ امتیاز سے نوازا گیا، جبکہ ان کی طرف سے یہ ایوارڈ محمد یاسر پیرزادہ نے وصول کیا۔ دفاعِ وطن اور بہادری کا مظاہرہ کرنے والے کئی سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی شجاعت کے اعزازات دیے گئے۔
سپاہی اظہر محمود کو بہادری پر شجاعت ایوارڈ دیا گیا جبکہ وطن پر جان قربان کرنے والے سپاہی شاہ ولی خان، اے ایس آئی اعجاز خان شہید، سب انسپکٹر لائق زادہ شہید، کانسٹیبل عالم زیب شہید اور کانسٹیبل محمد اعجاز شہید کو ہلالِ شجاعت سے نوازا گیا۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر وفاقی وزیر سردار اویس احمد لغاری کو ہلالِ امتیاز دیا گیا۔ بحرین کے سفارتکار محمد ابراہیم محمد عبدالقادر کو ستارہ پاکستان سے نوازا گیا۔
سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور انجینئرنگ کے شعبوں میں خدمات انجام دینے والی مختلف شخصیات کو بھی اعزازات دیے گئے۔ مرزا رضوان بیگ، محمد یوسف خان، ڈاکٹر امیر محمد، پروفیسر ڈاکٹر اکرام الحق اور اصغر ندیم سید کو ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔
ادب میں خدمات پر زہرہ ماجد علی، کھیل کے میدان میں خدمات پر سابق کپتان Shahid Afridi، کوہ پیمائی میں کاشف شہروز، گھڑ سواری کے شعبے میں ملک عطا محمد خان مرحوم، صحافت میں احتشام الحق اور سیاحت کے شعبے میں عزیز الدین بولانی کو بھی ہلالِ امتیاز کے اعزازات دیے گئے۔
تقریب کے دوران مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والے افراد کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ان کی قومی خدمات کو سراہا گیا۔
سیو آور پاک
