جمعرات , 4 جون 2026 | 1 USD = 278.456204 PKR
ایک تولہ سونا ریٹ = 466000.00 روپے
یورپی یونین نے پاکستان کے حقِ دفاع کی کھل کر حمایت کر دی
یورپی یونین نے پاکستان کے حقِ دفاع کی کھل کر حمایت کر دی

یورپی یونین نے پاکستان کے حقِ دفاع کی کھل کر حمایت کر دی

یورپی یونین نے پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ملک کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے شہریوں کے تحفظ اور دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ تاہم، تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی بہترین راستہ قرار دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں پاک-یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالس نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی تھی اور اس سے مزید عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ ان کے مطابق یورپی یونین نے مسلسل دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اقدامات کریں۔

کایا کالس نے کہا کہ موجودہ حالات میں طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارتی کوششیں ہی مسائل کا مؤثر حل فراہم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹریٹجک مذاکرات کے دوران مختلف علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے پاکستان آمد پر ملنے والے پرتپاک استقبال پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریق مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔ ان کے مطابق پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع نے عالمی سطح پر توانائی کے شعبے کو متاثر کیا، جس کے باعث پائیدار جنگ بندی اور سفارتی عمل کو جاری رکھنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

کایا کالس نے کہا کہ 2026 میں یورپی یونین اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط اور جدید تقاضوں کے مطابق بنانا ایک اہم مقصد ہوگا۔ ان کے مطابق دونوں فریق تجارت، معیشت، علاقائی استحکام اور عالمی امن جیسے شعبوں میں مشترکہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو خطے کا ایک اہم ملک اور یورپی یونین کا قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیا۔

اس موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں یورپی قیادت اور پاکستان کے درمیان مسلسل رابطے دونوں فریقوں کے مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور یورپی رہنماؤں کے درمیان ہونے والے رابطوں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق اسٹریٹجک ڈائیلاگ دونوں فریقوں کے درمیان مستقبل پر مبنی اور متحرک شراکت داری کا ثبوت ہے۔

وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے اس دور سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور دونوں جانب تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور یہ بھی ایک اہم پیش رفت ہے کہ یورپی یونین کے کسی اعلیٰ خارجہ پالیسی عہدیدار کا پاکستان کا یہ دورہ سات برس بعد ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران سکیورٹی، انسداد دہشت گردی، افغانستان کی صورتحال اور خطے میں موجود دہشت گرد عناصر سے متعلق معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اسحاق ڈار نے امریکا اور ایران کے درمیان بحران کے دوران یورپی یونین کے تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا۔

پاک-یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا یہ آٹھواں دور سکیورٹی، تجارت، معیشت، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی تعاون سمیت مختلف اہم شعبوں پر مرکوز ہے۔ اپنے دورۂ پاکستان کے دوران کایا کالس صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گی، جبکہ مختلف تھنک ٹینکس اور جامعات کے نمائندوں سے بھی تبادلہ خیال کریں گی۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور یورپی یونین تجارت، ترقی، موسمیاتی تبدیلی، ہجرت اور علاقائی استحکام سمیت مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یورپی یونین پاکستان کی دوسری بڑی تجارتی شراکت دار ہے اور جی ایس پی پلس پروگرام کے تحت پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک خصوصی سہولتوں کے ساتھ رسائی حاصل ہے۔

گزشتہ برسوں میں جی ایس پی پلس پروگرام کے باعث پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی ٹیکسٹائل، گارمنٹس، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات اور جراحی آلات سمیت متعدد مصنوعات یورپی منڈیوں میں کامیابی سے اپنی جگہ بنا رہی ہیں، جس سے ملکی برآمدات کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچا ہے۔

About A.M JAN

Check Also

گلگت بلتستان کیلئے نواز شریف کے وعدوں نے سب کو حیران کر دیا

گلگت بلتستان کیلئے نواز شریف کے وعدوں نے سب کو حیران کر دیا

مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ …

جواب دیں