ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ روسی صدر Vladimir Putin سے ایک اہم ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کو خطے کی صورتحال کے حوالے سے کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے Islamic Republic News Agency کے مطابق عباس عراقچی کا طیارہ ایک خاص کال سائن "میناب 168” کے ساتھ روانہ ہوا۔ یہ نام ان بچوں کی یاد میں رکھا گیا ہے جو 28 فروری کو میناب شہر کے ایک پرائمری اسکول پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔
یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس دوران ایران اور روس کے درمیان مختلف معاملات، خاص طور پر خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے ایران نے امریکہ کو ایک نئی سفارتی تجویز دی تھی۔ اس تجویز کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری کشیدگی کو ختم کرنا تھا۔ تاہم اس منصوبے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ جوہری مذاکرات کو فی الحال کچھ وقت کے لیے روک دیا جائے۔
سیو آور پاک
