اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی بطور جج تعیناتی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے بعد سنایا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ جس وقت جسٹس طارق محمود جہانگیری کو جج مقرر کیا گیا، اس وقت وہ وکالت کے لیے قانونی طور پر اہل نہیں تھے اور ان کے پاس ایل ایل بی کی درست اور قابلِ قبول ڈگری موجود نہیں تھی۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کو فوری طور پر ڈی نوٹیفائی کیا جائے اور فیصلے کی مصدقہ کاپی وزارتِ قانون کو بھی ارسال کی جائے۔
سماعت کے دوران کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار ریکارڈ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ طارق جہانگیری نے جعلی انرولمنٹ نمبر کے ذریعے ایل ایل بی کا امتحان دیا تھا اور پابندی کے دوران بھی امتحانات کلیئر کیے گئے۔ رجسٹرار کے مطابق متعلقہ کالج کے پاس اس حوالے سے کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
عدالت کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ کراچی یونیورسٹی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی ڈگری باضابطہ طور پر منسوخ کر دی ہے۔
واضح رہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 9 دسمبر کو دیے گئے دو رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف آئینی عدالت میں اپیل بھی دائر کر رکھی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست قابلِ سماعت نہیں، اور ان کے خلاف دائر رٹ کو خارج کیا جائے۔
سیو آور پاک
