اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان نے ایک بار پھر اپنا مصالحانہ کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس عمل کی ابتدا خود کی اور سب سے پہلے امریکی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات کی۔ اس کے بعد انہوں نے ایرانی وفد کے ساتھ بھی اہم ملاقات کی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا راستہ ہموار کرنا تھا۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان نے پہلے ہی اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ابتدائی رابطہ کروانے میں وزیراعظم شہباز شریف خود کردار ادا کریں گے۔ اس سلسلے میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی وزیراعظم کی معاونت کر رہے ہیں۔ حکمت عملی کے تحت وزیراعظم دونوں فریقین سے الگ الگ ملاقات کر کے ان کا مؤقف سن رہے ہیں اور ایک دوسرے تک پہنچا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی نائب صدر J. D. Vance سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں امریکی وفد کے اہم ارکان، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی شریک تھے۔
دوسری جانب، ایرانی وفد کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi، اسپیکر باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اس ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا اور دونوں ممالک کے درمیان مثبت ماحول بنانے کی کوشش کرے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس ملاقات کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان مزید پیش رفت کے لیے انتظامات کو واضح کیا جائے گا۔ ایرانی وفد نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد پہلے آرمی چیف Asim Munir سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر ثالث کے طور پر فعال ہو گیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی آمد پر بھی اہم ملاقاتیں ہوئیں، جن میں خطے کی صورتحال اور امن مذاکرات پر بات کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا اور دونوں فریقوں کو قریب لانے کی کوشش کرتا رہے گا۔
ابتدائی ملاقاتوں کے بعد وزیراعظم اپنی دیگر حکومتی ذمہ داریوں میں مصروف ہو جائیں گے، تاہم وہ مسلسل مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ رہیں گے اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں جاری سفارتی کوششوں کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔
اس طرح پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی شروعات کر دی ہے، جس کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔
سیو آور پاک
