پاکستان اور چین کے درمیان بیجنگ میں ہونے والے ساتویں سٹریٹجک ڈائیلاگ میں دونوں ممالک نے افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے، مسئلہ کشمیر کے پرامن حل اور دوطرفہ سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر مکمل اتفاق کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اس اہم ڈائیلاگ کی صدارت چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔ مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل جاری رکھنے اور ایک دوسرے کی سکیورٹی ضروریات میں بھرپور تعاون پر زور دیا۔
اعلامیے میں پاکستان نے ایک بار پھر ’’ایک چین پالیسی‘‘ کے تحت تائیوان، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور جنوبی بحیرہ چین سے متعلق معاملات پر چین کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ اس کے جواب میں چین نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
دونوں ممالک نے مسئلہ کشمیر کو ایک تاریخی تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ چین نے واضح کیا کہ وہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔
ڈائیلاگ کے دوران پاکستان اور چین کی دوستی کے 75 سال مکمل ہونے پر مشترکہ تقریبات منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا، جن کا مقصد نئی نسلوں میں دوستی کو مزید مضبوط بنانا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
فریقین نے دفاع، سلامتی، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی بات چیت کی۔ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاک چین تعلقات کی مضبوطی خطے کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ سی پیک کو محفوظ اور ہموار انداز میں آگے بڑھانے کے لیے انسداد دہشت گردی اور سکیورٹی تعاون مزید بڑھایا جائے گا۔ دونوں ممالک نے سی پیک 2.0 کی تعمیر، صنعت، زراعت اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری، گوادر بندرگاہ کی ترقی اور خنجراب پاس کو سال بھر کھلا رکھنے جیسے اہم فیصلوں پر بھی اتفاق کیا۔
پاکستان نے چین کی ترقیاتی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے 14ویں پانچ سالہ منصوبے کی کامیاب تکمیل اور 15ویں منصوبے کے آغاز پر چین کو مبارکباد دی۔ چین نے پاکستان میں چینی شہریوں اور منصوبوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا۔
دونوں فریقین نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی چین، افغانستان، پاکستان سہ فریقی مکالمے اور چین، بنگلہ دیش، پاکستان تعاون کے فریم ورک کو مزید فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
سیو آور پاک
