شہباز شریف کی سربراہی میں ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے اور معیشت کو مضبوط بنانے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کو فروغ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ کاروبار کر سکیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ریگولیٹری نظام کو سادہ، شفاف اور کم خرچ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور سرمایہ کاروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ لائسنسنگ اور دیگر سرکاری خدمات تک رسائی کے نظام کو جلد از جلد ڈیجیٹائز کیا جائے تاکہ وقت اور اخراجات دونوں میں کمی لائی جا سکے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں واضح بہتری آئی ہے۔ بریفنگ کے دوران حکام نے آگاہ کیا کہ رواں مالی سال جولائی سے مارچ تک ملکی برآمدات میں خصوصی اقتصادی زونز کا حصہ 3.7 فیصد رہا، جبکہ حکومت کا ہدف ہے کہ اسے مالی سال 2028 تک بڑھا کر 8 فیصد تک لے جایا جائے۔
مزید بتایا گیا کہ صوبوں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے بزنس ریڈی ایکشن پلان تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاروں کے لیے سرکاری اجازت ناموں کا حصول آسان بنانے کے لیے مختلف خدمات کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے۔ اسی مقصد کے تحت پاکستان ریگولیٹری رجسٹری کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔
حکام کے مطابق اس وقت ملک میں 21 خصوصی اقتصادی زونز فعال ہیں، جبکہ جون 2026 تک ان کی تعداد بڑھا کر 26 کرنے کا منصوبہ ہے۔ آسان کاروبار ایکٹ کے تحت سرخ فیتے کے خاتمے اور ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی سے سرمایہ کاری کے عمل کو مزید تیز اور آسان بنایا جائے گا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
سیو آور پاک
