وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کے بارے میں ابھی کچھ کہنا جلدی ہوگا، تاہم پاکستان کے مثبت کردار پر بھارت کی بے چینی صاف نظر آ رہی ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت ایران اور امریکا کے مذاکرات کے حوالے سے کوئی حتمی بات کرنا قبل از وقت ہے۔ لیکن انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے تعمیری کردار پر بھارت سخت ردعمل دے رہا ہے اور وہاں کی قیادت واضح طور پر پریشان دکھائی دے رہی ہے۔
انہوں نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیراعظم Narendra Modi سمیت چند اہم شخصیات اس صورتحال پر شدید ردعمل دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ پاکستان پر ثالثی کے حوالے سے اعتراض کرتے ہیں، وہ خود یوکرین کے معاملے میں کیا کردار ادا کر رہے تھے؟
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت نے یوکرین جنگ میں بھی ثالثی کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں جنگ اب تک ختم نہیں ہو سکی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے میں بھارت کا پاکستان پر تنقید کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔
وزیر دفاع نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا مثبت اور سفارتی کردار جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی بیرونی دباؤ یا تنقید سے متاثر ہوئے بغیر اپنی پالیسی پر قائم رہے گا۔
سیو آور پاک
