وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں تین سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر خاص زور دیا گیا کہ ان مراکز کے قیام میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے قیمتی پتھروں کی برآمدات بڑھانے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری وزارتِ منصوبہ بندی کو سونپ دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، خاص طور پر قیمتی پتھروں سے مالا مال ہے اور اگر ان وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جائے تو برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے معاون خصوصی ہارون اختر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت دی کہ قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے بعد برآمدات بڑھانے کے لیے فوری طور پر ایک واضح اور قابلِ عمل حکمت عملی تیار کی جائے اور جلد پیش کی جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت قیمتی پتھروں کی کٹائی، تراش خراش اور زیورات سازی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے تین جدید سینٹرز آف ایکسیلینس قائم کر رہی ہے۔ ان میں سے دو مراکز گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں قائم کیے جائیں گے، جہاں زمین پہلے ہی مختص کی جا چکی ہے، جبکہ اسلام آباد میں ایک اور مرکز کے قیام پر کام جاری ہے۔
حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان مراکز میں عالمی معیار کے مطابق تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ مقامی افراد کو جدید مہارتیں سکھائی جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جولائی 2026 میں پاکستان میں قیمتی پتھروں کی پہلی بین الاقوامی نمائش منعقد کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ سری لنکا اور چین کے تعاون سے قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے حوالے سے خصوصی تربیتی پروگرامز شروع کیے جا رہے ہیں۔ وزارتِ پیٹرولیم جدید کان کنی کے طریقوں کو فروغ دے رہی ہے تاکہ وسائل کا ضیاع کم سے کم ہو۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ مقامی آبادی کو شامل کرتے ہوئے شراکتی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں اور ایک ہزار افراد کو عالمی معیار کے مطابق کان کنی کی تربیت دی جا رہی ہے۔ وزیراعظم کو منصوبوں کی پیش رفت اور تکمیل کے شیڈول کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر دوبارہ زور دیا کہ قیمتی پتھروں کے شعبے کو مضبوط بنا کر اسے برآمدی معیشت کا اہم حصہ بنایا جائے اور اس کے لیے ٹھوس اور مربوط اقدامات کیے جائیں۔
سیو آور پاک
