سعودی عرب نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقین سے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، ساتھ ہی پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی مکمل حمایت کا بھی اعلان کیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ موجودہ فوجی صورتحال نہایت حساس ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایا جائے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ فریقین کو اشتعال انگیزی سے دور رہنا چاہیے اور معاملات کو سمجھداری سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب پاکستان کی سفارتی کوششوں کو مثبت انداز میں دیکھتا ہے اور اس بات کی حمایت کرتا ہے کہ مسئلے کا حل بات چیت اور سیاسی طریقے سے نکالا جائے، تاکہ خطہ کسی بڑے بحران کی طرف نہ جائے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن اور استحکام پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے فوری طور پر حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
سعودی عرب نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ یہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اس سے پہلے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ اس دوران انہوں نے یو اے ای کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
سعودی ولی عہد نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ ریاض متحدہ عرب امارات کی سلامتی اور استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
سیو آور پاک
