ویب ڈیسک: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے بعد شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اُن کی موجودگی کے نشانات مٹانے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی ہے۔ اس فوٹیج نے دنیا بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آخر اس قدر غیر معمولی احتیاط کیوں برتی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، ملاقات کے فوراً بعد شمالی کوریا کے عملے نے کمرے میں موجود وہ تمام چیزیں صاف کر ڈالیں جنہیں کم جونگ اُن نے چھوا تھا۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ عملے کے دو ارکان کرسی کی پشت اور بازوؤں کو بار بار رگڑ کر صاف کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کافی ٹیبل کو بھی باریک بینی سے پونچھا گیا جہاں کم جونگ اُن بیٹھے تھے، اور وہ گلاس بھی فوراً ہٹا دیا گیا جس سے انہوں نے پانی پیا تھا۔
کریملن کے رپورٹر ایلیگزینڈر یوناشیف نے یہ ویڈیو اپنے ٹیلی گرام چینل پر شیئر کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ملاقات کے فوراً بعد کم جونگ اُن کے عملے نے کمرے کو اس طرح صاف کیا جیسے وہاں ان کی موجودگی کا کوئی نشان باقی نہ رہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دو گھنٹے سے زائد مذاکرات کیے، اس کے بعد وہ ایک ساتھ چائے پینے گئے اور پھر ایک دوسرے سے گرمجوشی سے رخصت ہوئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب شمالی کوریائی سربراہ نے اپنی موجودگی کو اس قدر خفیہ رکھنے کی کوشش کی ہو۔ جاپانی اخبار نکی کے مطابق، جنوبی کوریا اور جاپانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کم جونگ اُن ہر غیر ملکی دورے پر اپنی مخصوص ٹرین کے ساتھ ذاتی بیت الخلا بھی لے کر جاتے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے ذاتی نشانات یا ڈیٹا کو دوسروں تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ غیر معمولی اقدامات صرف حفاظتی نہیں بلکہ سیاسی پیغام بھی دیتے ہیں کہ کم جونگ اُن اپنی حفاظت اور رازداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔
سیو آور پاک
